AskSufi

Q & A

Were the great Islamic scholars actually Sufis?

Misconceptions


Many of the most respected scholars in Islamic history were. To discard the works of those trained by Sufis would mean discarding “75 percent or more of the books of Islam.”

Tasawwuf is sometimes cast as opposed to serious scholarship. History says the reverse. Among those connected to it are Imam al-Ghazali, Imam al-Nawawi, al-Suyuti, Ibn Abidin, and many of the great hadith masters. Even Ibn Taymiyya devoted two full volumes of his Majmu al-Fatawa to Tasawwuf, and his student Ibn Qayyim wrote a three-volume commentary on a Sufi manual of the spiritual path.

Imam Abu Hanifa, the great jurist, was himself an authority on the principles of Tasawwuf and the teacher of noted Sufi masters. And when Imam Ahmad ibn Hanbal was asked about the Sufis who sat in the mosques, he answered simply: "Knowledge is with those who sit with them the most."

اردو

کیا اسلام کے بڑے علماء واقعی صوفی تھے؟

اسلامی تاریخ کے سب سے زیادہ محترم علماء میں سے اکثر ایسے ہی تھے۔ جنہیں صوفیاء نے تربیت دی، اُن کی تصانیف کو رد کر دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ “اسلام کی پچہتر فیصد یا اُس سے زیادہ کتابوں” کو رد کر دیا جائے۔

تصوف کو کبھی کبھی سنجیدہ علم کے مقابل کھڑا کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ مگر تاریخ اِس کے برعکس کہتی ہے۔ اِس سے وابستہ ہستیوں میں امام غزالی، امام نووی، سیوطی، ابن عابدین اور حدیث کے کئی بڑے ائمہ شامل ہیں۔ حتیٰ کہ ابن تیمیہ نے اپنے مجموع الفتاویٰ کی دو مکمل جلدیں تصوف کے لیے وقف کیں، اور اُن کے شاگرد ابن قیم نے سلوکِ روحانی کے ایک صوفی رسالے پر تین جلدوں پر مشتمل شرح لکھی۔

امام ابو حنیفہ، جو عظیم فقیہ تھے، خود اصولِ تصوف کے ماہر اور نامور صوفی مشائخ کے اُستاد تھے۔ اور جب امام احمد بن حنبل سے اُن صوفیاء کے بارے میں پوچھا گیا جو مساجد میں بیٹھتے تھے، تو اُنہوں نے سادگی سے جواب دیا: “علم اُنہی کے پاس ہے جو اُن کے ساتھ سب سے زیادہ بیٹھتے ہیں۔”