Q & A
What is the real meaning of Zuhd (detachment / asceticism)?
Zuhd is not giving up what is permitted or throwing away wealth. It is trusting what is in Allah's hand more than what is in your own, and meeting hardship with patience.
Detachment is widely misunderstood as poverty or self-denial. The Prophet ﷺ corrected this: "Zuhd does not mean forbidding what is permitted, or squandering wealth." Rather, it is to stop treating what you hold in your hand as more reliable than what is in Allah's hand, and to feel that the reward for a hardship is greater than what the hardship made you lose.
So real detachment lives in the heart, not in the emptiness of your pockets. It is inseparable from Tawakkul, genuine trust in Allah.
زہد (بے رغبتی / ترکِ دنیا) کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟
زہد اس کا نام نہیں کہ جو حلال ہے اسے چھوڑ دیا جائے یا مال کو ضائع کر دیا جائے۔ یہ اُس چیز پر زیادہ بھروسہ کرنا ہے جو اللہ کے ہاتھ میں ہے، اُس کی نسبت جو تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے، اور مشکل کا سامنا صبر کے ساتھ کرنا ہے۔
زہد کو عام طور پر غلط سمجھا جاتا ہے کہ یہ فقر یا نفس کشی ہے۔ نبی ﷺ نے اس کی تصحیح فرمائی: ”زہد کا یہ مطلب نہیں کہ حلال کو حرام کر لیا جائے، یا مال کو ضائع کر دیا جائے۔“ بلکہ یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اُس پر اُس چیز سے زیادہ بھروسہ کرنا چھوڑ دو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور یہ محسوس کرو کہ کسی مشکل کا اجر اُس چیز سے بڑھ کر ہے جو اُس مشکل نے تم سے چھین لی۔
پس حقیقی بے رغبتی دل میں بستی ہے، تمہاری جیبوں کے خالی پن میں نہیں۔ یہ توکل سے جدا نہیں، یعنی اللہ پر سچا بھروسہ۔